Tuesday, May 21, 2013

Column on Zaid Hamid by poet and journalist Farhat Shah


A very interesting column by poet and journalist Farhat Shah alhamdolillah !!!
.
ماروی سرمد کی خفیہ داڑھی اور مولونا محمد نواز کی پوشیدہ بندیا

فیسبک کالم ؛ فرحت عباس شاہ

پاکستان کی سیاسی تقدیر کو بین الاقوامی معاشی مقابلے بازی سے علیحدہ کرکے دیکھنے والے حقیقت تک پہنچنے سے رہ جاتے ھیں۔ کوئی ایک بدنصیبی تھوڑی ہے، پچھلے 50 سالوں سے پاکستان پر قابض گروہوں کے ذاتی اثاثے پاکستان کی ریاست کے اثاثوں سے کئی گُنا بڑھ چکے ھیں لیکن پاکستانی قوم کی ایک بڑی تعداد ابھی تک اس سچائی کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ جن لوگوں نے رائے عامہ ھموار کرنی تھی انہوں نے اپنی قیمتیں وصول کر لیں۔ امتیاز عالم اور ماروی سرمد جیسے دانشور غیر ملکی سرمائے سے پاکستانی میڈیا انفلوئنس کی سیل پرچیز پر لگے ہوئے ہوں اور غیر ملکی پیسے سے سرگرم عمل این جی اوز مسلسل معاشرتی ابہام پیدا کرنے مین لگی ہوئی ہوں تو تو سچ اور جھوٹ کا اندازہ کہاں سے ھوگا۔

میں نے کچھ سال پہلے ایک نئےآدمی کو مختلف ٹی وی چینلز پر نئی باتیں کرتےسُنا ۔ وہ ایک نہایت پُرجوش اور منطقی انداز سے دنیا بھر میں فساد برپا کرنے والی قوتوں کو بے نقاب کرتا نظر آیا۔ میری پچاس سالہ طبعی زندگی اور پینتیس سالہ ادبی و صحافتی زندگی میں ، میں نے پہلی دفعہ کسی کو اس بے باکی، دانائی اور علم کیساتھ بین الاقوامی سازشوں کو آشکار کرتے دیکھا۔ انسانیت دشمنی سے لیکر تاریخی بد بختیوں کے تانوں بانوں کی تار پود کو ادھیڑتا یہ درویش سید زید زمان حامد تھا۔ پہلا تا ئثر جو اسے سن کے میرے اندر پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ یہ جس دلیری سے بین الاقوامی ظالموں کو للکار رہا ہے اب دیکھیں اس پر جوابی حملہ کس سمت سے ہوتا ہے۔ پھر میں نے اس پر پہلا حملہ سیفما کی ماروی سرمد کی طرف سے ہوتا دیکھا۔ سیفما کے بارے میں میں نے لاہور کے بہت سےصحافیوں سے سن رکھا ہے کہ اس کے پاس اربوں روپئے کے فنڈز ھیں اور زیادہ تر یہ ادارہ سامراجی فساد سازوں اور ھندوستانی سازشی عناصر کی زبان بولتا نظر آتا ہے ۔ کسی زمانے میں سوشل ازم کا دم بھرنے والے امتیاز عالم اس ادارے کے کرتا دھرتا ہیں جو اب لبرلازم کا ئلم اٹھائے نظر آتے ہیں اور پاکستان میں نظریاتی بگاڑ پیدا کرنے کی زمہ داری کے عوض مختلف غیر ملکی اداروں سے کروڑوں روپئے حاصل کرتے ہیں ۔ پھر میں نے زید حامد پر دوسرا حملہ مجلس ختم نبوت کی طرف سے ہوتا ہوا دیکھا جن کی کوشش تھی کہ کسی طرح اسے پیغمبری کا یا امام مہدی ھونے کا دعویٰ کرنے والا ثابت کرکے واجب القتل قرار دے دیا جائے۔ زید حامد پر یہ دو ظرفہ حملہ دیکھ کر مجھے ماروی سرمد کے خوبصورت چہرے پر ایک مہندی لگی لمبی سی داڑھی اگتی نظر آئی اور مولانا صاحب کے ماتھے پر لگی خفیہ تلک یا بندیا صاف دکھائی دینے لگی اور میری زبان پر ایک مشہور زمانہ شعر چُرمُرا کر رہ گیا کہ ۔ ۔ ۔
ایک ہی صف میں کھڑے ھوگئے مولانا اور امتیاز ۔۔۔نہ کوئی سرمد ماروی رہی اور نہ کوئی مولانا محمد نواز

پھر مجھے معروف سوشلسٹ دانشور اور لیڈر ڈاکٹر لال خان اور دنیا ٹی وی کے تجزیہ نگار سعید قاضی دونوں کا سیاسی تناظر یاد یاد آیا جس کے مطابق دنیا میں معاشی بربریت کرنے والے ایک طرف سے مذہبی انتہا پسندوں کے ہتھیار سے تو دوسری طرف سے نام نہاد لبرل ازم کی علمردار کرائے کی این جی اوز کے زریعے دنیا کو اپنے خونی شکنجوں میں لیے ہوئے ہیں۔

زید حامد پر تیسرا حملہ مسٹر مولانا آصف علی زرداری کے ٹی چینل کیپیٹل ٹی وی کی طرف سے ھوا اور چوتھا کسی فوجی ادارے کی طرف سے۔ انسانیت ، اسلام اور پاکستانیت کا دم بھرنے والے ایک سچے آدمی پر چاروں طرف سے حملہ آور ہونے والے مافیا نے آخری وار میڈیا کو زید حامد کی ٹاک شوز میں شمولیت سے روک کے کر دیا۔

سمجھدار لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو امریکہ کے خلاف کھلے بیانات نہیں دینے چاہیے تھے۔ سرمایہ داری نظام اور امریکہ کے خلاف بات کرکے کوئی موت یا زندگی بھر کی ناکامی سے کیسے بچ سکتا ہے۔ اس بات کا علم شاید زید حامد کو بھی ہے ، اسی لیے تو وہ کہتا ہے کہ میری منزل یا تو خلافت راشدہ کے نظام عدل کا نفاذ ہے یا پھر شہادت۔ جب کہ امتیازعالم ، ماروی سرمد اور مولانا محمد نواز دونوں نے لگتا ہے ایسے ہر آدمی کو جو دنیا پر معاشی تسلط قائم رکھنے والے بھیڑیوں کے خلاف آواز اُٹھاتا ہو کو جھوٹا اورپاگل قرار دینے یا گستاخ رسول قرار دے کے مار دینے کے پیسے پکڑے ہوئے ھیں۔

ان حالات میں اگر کوئی پاکستان کی معاشی و سماجی آزادی کے خواب دیکھتا ہے تو دیوانہ ہی ہے چاہے وہ عمران خان ہو یا نواز شریف

https://www.facebook.com/farhat.poet

No comments: